غزلِ مسلسل
مانا بہ دیر ایک سی حالت نہیں رہی
پر کیا کریں کہ صبر کی طاقت نہیں رہی
کچھ بھی نہیں تھا پاس تو رہتے تھے جب بھی خوش
اور اب کسی بھی چیز میں لذّت نہیں رہی
چھاتا نہیں ہے ذہن پہ وہ وصل ہو کہ ہجر
شاید لہو کی آگ میں شدّت نہیں رہی
دنیا کے تو حساب سے ہم کامیاب ہیں
البتہ خود سے ملنے کی فرصت نہیں رہی
ہم کیوں زمیں کا بوجھ بنے تم کو اس سے کیا
تم پر تو بے وفائی کی تہمت نہیں رہی
ق
اہلِ یقیں گمان کے رستوں میں کھو گئے
اہلِ نظر کے پاس بصیرت نہیں رہی
اب اُن کے بام و در میں نہیں روشنی کا نام
وہ جن کے دم سے دہر میں ظلمت نہیں رہی
اُڑتے ہیں خشک پتوں کی صورت وہ لوگ اب
جن کو کبھی بہار سے فرصت نہیں رہی
اک کوہسارِ کبر ہے جس کو بھی دیکھیے
عظمت کی بات اب کہیں ’’خدمت‘‘ نہیں رہی
دنیا میں ڈوب کر نہ کرے جو عطا کا شکر
دیکھا کہ اُس کے بخت میں برکت نہیں رہی
۔۔۔۔
کس طرح روک پائیں گے تاروں کی گردشیں
وہ جن کو اپنے آپ پہ قدرت نہیں رہی
جو بھی ہے رنگ و لطف وہ جاگے ہوؤں کا ہے
سوئے ہوؤں کے ساتھ تو قسمت نہیں رہی
کہنے کو لوگ کرتے ہیں تاروں سے گفتگو
آپس میں بات چیت کی عادت نہیں رہی
گو جانتے ہیں دور کے سیّارگاں کا حال
پر اپنے ارد گرد سے نسبت نہیں رہی
سمجھا ہے جب سے ’’وقتِ مقرر‘‘ کا فلسفہ
اب اپنے صبح و شام میں عجلت نہیں رہی
اچھے رہے جو جی گئے فطرت کے ساتھ ساتھ
خود تو کسی کے ساتھ بھی فطرت نہیں رہی
کیسی بھی تیز دھوپ ہو‘ ہوتی ہے رزقِ شام
پھر اس کا کیا ملال کہ شہرت نہیں رہی
دنیا بھی اب رہی نہیں ویسی نظر نواز
دل میں بھی اب وہ آگ‘ وہ وحشت نہیں رہی
عظمت ، عروج ، تخت تو سب تھے ہی عارضی
پر وہ جو اپنے نام کی عزت نہیں رہی
یہ کس جہاں میں عمرِ رواں لے چلی ہمیں
منظر میں رنگ، آنکھ میں حیرت نہیں رہی
ان رہبروں نے کر دیا اس درجہ بے یقیں
اپنی کسی کے ہاتھ پہ بیعت نہیں رہی
ماں باپ ہی کے دم سے تھے سارے معاملے
ہاتھوں کا زور‘ پاؤں کی جنت نہیں رہی
جس سے خریدا جا سکے قسمت کا فیصلہ
ہرگز کسی کے پاس وہ دولت نہیں رہی
ہر ہر قدم پہ دیتی رہی زندگی سبق
عبرت کی بات یہ ہے کہ عبرت نہیں رہی
ریگِ روانِ وقت میں بھٹکے ہیں اس قدر
اُمید کی تو چھوڑیے‘ حسرت نہیں رہی
جونہی ہلا وہ تخت تو پھر دوسرے ہی پل
در پر غلام ، راہوں میں خلقت نہیں رہی
جتنے بھی دعویدار تھے‘ جتنے تھے مدّعی
سب رہ گئے ہیں صرف ’’محبت‘‘ نہیں رہی
ڈھلتے ہی عمر رکنے لگا کاروانِ شوق
دل کو کسی بھی چیز سے رغبت نہیں رہی
جاں داد گانِ راہِ محبت کا شکریہ
اگلی سی اب وہ ظلم کی دہشت نہیں رہی
فرہاد ہی کے ساتھ گئی رسمِ جوئے شیر
مجنوں کے بعد دشت میں وحشت نہیں رہی
اُس بے وفا کی چپ نے کیا خود ہی آشکار
ہم کو بیانِ درد کی حاجت نہیں رہی
حرفِ غلط مثال وہ کٹتا چلا گیا
جس کے بھی قول و فعل میں وحدت نہیں رہی
جا ری ہے اب بھی چاروں طرف رقص موت کا
جو سُرخرو کرے وہ شہادت نہیں رہی
اے کاروانِ درد! بہت تھک گئے ہیں ہم
اب اور مسکرانے کی ہمّت نہیں رہی
امجد نشاطِ غم کا مزا تم بھی جانتے
’’افسوس تم کو میر سے صحبت نہیں رہی‘‘
